بھٹکل:12؍جنوری (ایس اؤ نیوز) سمندری راستے سے سیاحتی مقام مرڈیشور پہنچ کر بم دھماکے کرنے سےپہلے ہی مقامی پولس اور ساحلی تحفظ دستہ کے افسران نے مشترکہ کارروائی کرتےہوئے پانچوں (نقلی) دہشت گردوں کو اپنی تحویل میں لےلیا۔ خیال رہے کہ یہ سبھی لوگ ساحلی ریڈ فورس دستے کا عملہ کے اہلکار تھے۔ ان کو اپنی تحویل میں لینےکے ساتھ ساتھ ان کے پاس موجود دھماکہ خیز اشیاء کو بھی ضبط کرلیا گیا۔ یہ واقعہ منگل کو پیش آیا ہے۔ دراصل یہ ایک بحری راستے سے بھارتی حدودمیں گھسنے والے دہشت گردوں پر نگاہ رکھنے کی ایک عملی مشق تھی۔
عملی مشق میں مقامی پولس ، ساحلی تحفظ دستہ اور ریڈ فورس دستے کا عملہ شریک تھا۔ بھٹکل سمندر سے 80 ناٹیکل میل دوری پر ایک مشتبہ شری رام رکشھا نامی ماہی گیر بوٹ کی گشت کی اطلاع پاتےہی سکیورٹی پر تعینات پولس فورس جائے وقوع پر پہنچی اور مشتبہ بوٹ کا گھیراؤ کیا۔ بوٹ کو اپنی تحویل لے کر تلاشی لی گئی تو اس میں دھماکہ خیز اشیاء ہونےکا پتہ چلا۔
عملی مشق کو انجام دینےکے لئے ساحلی پٹی کے کئی ایک تعلقہ جات میں ناکہ بندی کرتےہوئے پولس فورس تعینات کی گئی تھی، جہاں کئی سواریوں کی بھی تلاشی لی گئی۔ شہر کے اہم جگہوں پ پولس سیکوریٹی کو دیکھ کر عوام بھی حیرت کا اظہار کررہے تھےکہ آخر کیا بات ہے کہ ہر جگہ پولس سکیورٹی ہے۔ جیسےہی پتہ چلا کہ یہ ایک عملی مشق کا حصہ ہے تو زندگی معمول پر لوٹ آئی۔
دہشت گردانہ سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنے اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کو لےکر سکیورٹی محکمہ کے عملے کو بیدار رکھنے کے لئے کبھی کبھی عملی مشق کا اہتمام کیا جاتارہاہے۔ بھٹکل سی پی آئی دیواکر، ساحلی تحفظ دستے کے سی پی آئی ناگراج، بھٹکل مضافاتی تھانہ پی ایس آئی اومکارپااور عملہ عملی مشق کی کارروائی میں شریک تھا۔
اسی طرح کی عملی مشق کا اہتمام انکولہ ، کمٹہ ، کاروار اور ہوناور میں بھی کیاگیا ۔ بحریہ فوج کے نویل ریڈ فورس کا عملہ جب بیلمبار بندرگاہ پر ماہی گیر بوٹ میں دھماکہ خیز اشیاء رکھنےکی کوشش میں تھے تو سکیورٹی عملہ نے کارروائی کرتےہوئے انہیں گرفتار کرلیا۔